جس نے کوئی یوسف کوئی یعقوب بنایا اس نے مجھے طالب تجھے مطلوب بنایا
بخشی ہے اسی نے تو مجھے تیری محبت پیارے مرے جس نے تجھے محبوب بنایا
ہم کو تو نظر پڑتی ہے سب خوبی اسی کی جس نے تجھے خوبوں میں بہت خوب بنایا
کہتے ہو جدائی میں کرو صبر ہماری کیا دل کو مرے آپ نے ایوب بنایا
جس دن سے میں چاہا اسے شرمانے لگا وہ شوخی نے مرے یار کو محجوب بنایا
زاہد کو اسی چیز سے دنیا میں ہے نفرت اللہ نے جس چیز کو مرغوب بنایا
صورت کو مری دیکھ ترابؔ اس نے کہا کل یوں عشق نے کس کے تجھے مجذوب بنایا