جب دل منصور پر حق چھا گیا لب پہ اقرار انا الحق آ گیا
یارو تم کہتے ہو جس کو عرش پر میں تو اپنے دل میں اس کو پا گیا
کون دیکھے اس کو غیر از اہل دل آفتاب اندھے سے کب دیکھا گیا
حیف سر حق نہ پوچھا ایک نے پاس اپنے اک جہاں آیا گیا
دم بخود ہو رہئے کچھ کہئے نہ اب حق جو کوئی بولا سو جھٹ مارا گیا
مرشد بر حق کے صدقے جائیے راہ حق کی جو ہمیں دکھلا گیا
کہہ دے طالب سے کہ سب حق ہے ترابؔ کلمۃ الحق وہ یہی فرما گیا