We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

زائرو پاسِ اَدب رکھو ہَوَس جانے دو آنکھیں اندھی ہوئی ہیں ان کو ترَس جانے دو


سُوکھی جاتی ہے اُمید غربا کی کھیتی بُوندیاں لکۂ رحمت کی برس جانے دو


پلٹی آتی ہے ابھی وجد میں جانِ شیریں نغمۂ قُم کا ذرا کانوں میں رَس جانے دو


ہم بھی چلتے ہیں ذرا قافلے والو! ٹھہرو گٹھریاں توشۂ اُمید کی کَس جانے دو


دِید گل اور بھی کرتی ہے قِیامت دل پر ہمصفیرو ہمیں پھر سُوئے قفس جانے دو


آتِش دِل بھی تو بھڑکاؤ ادب داں نالو کون کہتا ہے کہ تم ضبطِ نفس جانے دو


یوں تنِ زار کے درپے ہوئے دل کے شعلو شیوۂ خانہ براندازیِ خس جانے دو



No More Screenshots! Save Storage with Our Lyrics App!

Get it on Google Play


اے رضاؔ آہ کہ یوں سہل کٹیں جرم کے سال دو گھڑی کی بھی عبادت تو برس جانے دو

Your Lyrics, Even Offline - Install the App for Free!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah