We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

شورِ مہِ نو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا ساقی میں ترے صدقے مے دے رمضاں آیا



Offline Lyrics Anytime, Anywhere - Download the App Today!

Get it on Google Play


اس گل کے سوا ہر پھول باگوش گراں آیا دیکھے ہی گی اے بلبل جب وقتِ فغاں آیا


جب بامِ تجَلّی پر وہ نیّرِ جاں آیا سر تھا جو گرا جھک کر دل تھا جو تپاں آیا


جنّت کو حَرم سمجھا آتے تو یہاں آیا اب تک کے ہر اک کا منھ کہتا ہوں کہاں آیا


طیبہ کے سوا سب باغ پامالِ فنا ہوں گے دیکھو گے چمن والو! جب عَہْدِ خزاں آیا


سر اور وہ سنگِ در آنکھ اور وہ بزمِ نور ظالم کو وطن کا دھیان آیا تو کہاں آیا


کچھ نعت کے طبقے کا عَالم ہی نرالا ہے سکتہ میں پڑی ہے عقل چکر میں گماں آیا


جلتی تھی زمیں کیسی تھی دھوپ کڑی کیسی لو وہ قدِ بے سایہ اب سایہ کناں آیا


طیبہ سے ہم آتے ہیں کہیے تو جناں والو کیا دیکھ کے جیتا ہے جو واں سے یہاں آیا


لے طوقِ اَلم سے اَب آزاد ہو اے قُمری چٹھی لیے بخشِش کی وہ سَروِ رواں آیا


نامہ سے رضاؔ کے اَب مٹ جاؤ بُرے کامو دیکھو مِرے پلّہ پَر وہ اَچھے میاں آیا


بدکار رضاؔ خوش ہو بدکام بھلے ہوں گے وہ اَچھے میاں پیارا اَچھوں کا میاں آیا

Never Be Without Your Favorite Lyrics - Get the App for Offline Access!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah