We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

Mitaa Dil Se Gham e Zaad

Sabeeh Rehmani

مٹا دل سے غمِ زادِ سفر آہستہ آہستہ تصور میں چلا طیبہ نگر آہستہ آہستہ



Free Up Space - Get Lyrics Without Bulky Screenshots!

Get it on Google Play


زباں کو تاب گویائی نہیں رہتی مدینے میں صدا دیتی ہے لیکن چشمِ تر آہستہ آہستہ


اتاری راح کی بستی میں جلوؤں کی دھنک اس نے شکستِ شب پہ ہو جیسے سحر آہستہ آہستہ


جگاۓ علم کے سورج سکھائی لفظ کی حرمت کیے وا آگہی کے سارے در آہستہ آہستہ


محبت کا سلیقہ دے دیا وحشی قبائل کو مٹا صدیوں کی رنجش کا اثر، آہستہ آہستہ


صبیحؔ ان کی اور تو کہ جیسے برف کی کشتی کرے سورج کی جانب طےسفر، آہستہ آہستہ

Your Lyrics, Even Offline - Install the App for Free!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah