مدحِ نبیﷺ کرے جو فرشتہ سرشت ہو کہتا ہے نعت جس کا عقیدہ درست ہو
فضلِ خدا و لطفِ نبیﷺ سے ہے کیا بعید بزمِ رسولِ پاکﷺ ہو، ہم ہوں بہشت ہو
درپیش ہے حضورﷺ کی مدحت کا مرحلہ کیسے سمندِ فکر کی رفتار سست ہو
نسبت ہو جس کو سرورِ عالمﷺ کی فوج سے اُس کو کسی محاذ پہ کیسے شکست ہو
دل میں خدا کی یاد ہو، لب پہ نبیﷺ کا نام میری ہر اک نشست بس ایسی نشست ہو
کامل ہے اُن کے عشق میں شہزاد اِس قدر جتنا تو اتباعِ شریعت میں چُست ہو