We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

داغِ فرقت طیبہ قلب مضمحل جاتا کاش گنبد خضریٰ دیکھنے کو مل جاتا


میرا دم نکل جاتا ان کے آستانے پر ان کے آستانے کی خاک میں میں مل جاتا


میرے دل سے دھل جاتا داغِ فرقت طیبہ طیبہ میں فنا ہو کر طیبہ میں ہی مل جاتا


موت لے کے آجاتی زندگی مدینے میں موت سے گلے مل کر زندگی میں مل جاتا


خلد زارِ طیبہ کا اس طرح سفر ہوتا پیچھے پیچھے سر جاتا آگے آگے دل جاتا


دل پہ جب کرن پڑتی ان کے سبز گنبد کی اس کی سبز رنگت سے باغ بن کے کھل جاتا


فرقت مدینہ نے وہ دیئے مجھے صدمے کوہ پر اگر پڑتے کوہ بھی تو ہل جاتا



Never Be Without Your Favorite Lyrics - Get the App for Offline Access!

Get it on Google Play


دل مرا بچھا ہوتا ان کی رہ گزاروں میں ان کے نقش پا سے یوں مل کے مستقل جاتا


دل پہ وہ قدم رکھتے نقش پا یہ دل بنتا یا تو خاک پا بن کر پا سے متصل جاتا


وہ خرام فرماتے میرے دیدہ و دل پر دیدہ میں فدا کرتا صدقے میرا دل جاتا


چشم تر وہاں بہتی دل کا مدعا کہتی آہ با ادب رہتی مونھ میرا سل جاتا


در پہ دل جھکا ہوتا اذن پاکے پھر بڑھتا ہر گناہ یاد آتا دل خجِل خجِل جاتا


میرے دل میں بس جاتا جلوہ زار طیبہ کا داغِ فرقت طیبہ پھول بن کے کھل جاتا


ان کے در پہ اخترؔ کی حسرتیں ہوئیں پوری سائل درِ اقدس کیسے منفعل جاتا


Offline Lyrics Anytime, Anywhere - Download the App Today!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah