میٹھی نیند سلاتا ہے ہر روز خدا خود ہی مجھے جگاتا ہے ہر روز خدا
اپنے سارے بھولے بھٹکے بندوں کو اپنی سمت بلاتا ہے ہر روز خدا
میں اس کے محبوب کی نعتیں لکھتا ہوں یہ تحریک دلاتا ہے ہر روز خدا
میری سوچ کی دنیا روشن رہتی ہے نیا خیال سمجھاتا ہے ہر روز خدا
دن اور رات کی آمد کے آئینے میں اپنی شان دکھاتا ہے ہر روز خدا
ہم اس سے ہر روز بغاوت کرتے ہیں پھر بھی ہمیں کھلاتا ہے ہر روز خدا
اس کی ہے تعریف کہ یم سے بندوں کو اپنے گھر بلواتا ہے ہر روز خدا