We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

اے چارہ گرِ شوق کوئی ایسی دوا دے جو دل سے ہر اک غیر کی چاہت کو بھلا دے


بس دیکھ لیا دنیا کے رشتوں کا تماشا مخلوق سے امید کے سب دیپ بجھا دے


پاکیزہ تمنائیں بھی لاتی ہیں اداسی ہر ذوقِ طلب، ذوقِ تمنا مٹا دے


کیوں نیک گمانوں کے سہارے پہ جیئے ہے ان سارے فریبوں کو ،سرابوں کو مٹا دے


دیکھے یا نہ دیکھے یہ تو محبوب کا حق ہے تو آہ و فغاں کر نہ ہی غیروں کا گلہ دے


دے لذتِ دیدار کی بے ہوشی میں وہ ہوش جو ہستی کی تعریف و تعین کو گنوا دے


ناسوت و ملکوت و جبروت کے احوال لاہوتی و ہاہوتی دوائر میں ملا دے


اک میں ہوں فقط تو ہو عالمِ ہُو ہو اے حسنِ ازل سارے حجابات اٹھا دے


ہر فعل صفت ذات سے یوں مجھ کو فنا کر کوئی مجھے جانے نہ کوئی مجھ کو صدا دے


میں خود کو بھی خود اپنے سے پھر ڈھونڈ نہ پاؤں یوں آتش سوزاں سے مری راکھ جلا دے


انوار و معانی طبائع سے جدا کر اب عالم واحدات میں گم گشتہ بنا دے


ہوں ترے حجابات کی دہلیز پہ کب سے اک بار ذرا دیکھ لے اک پردہ ہٹا دے


ہے روح کو ہر لمحہ ترے وَصل کی امید آ زیست کی شب کو تو کبھی صبح بنا دے


سو بار بلایا تجھے سو بار ستایا تو بھی تو کبھی رات کو مل، چھپ کے ندا دے



Your Lyrics, Even Offline - Install the App for Free!

Get it on Google Play


خود دیکھ لے تو سویا ہے میں جاگ رہا ہوں تو بھی تو کبھی میری وفاؤں کا صلہ دے


بس ایک ہی صورت ہے اِدھر ان کی نظر کی جز ان کے ہر اِک یاد ہر اِک بات بھلا دے


کیوں ہوک سی اٹھتی ہے دلِ زار سے طاہر اس بستیِ ویراں کے خس و خاشاک جلا دے

Offline Lyrics Anytime, Anywhere - Download the App Today!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah