زندگی سنگ در یار سے آگے نہ بڑھی عاشقی مطلع دیدار سے آگے نہ بڑھی
تیرگی گیسوئے خم دار سے آگے نہ بڑھی روشنی تابش رخسار سے آگے نہ بڑھی
دلبری رونق بازار سے آگے نہ بڑھی سادگی حسرت اظہار سے آگے نہ بڑھی
خود فراموش ترے عرش کو چھو کر آئے خواجگی جبہ و دستار سے آگے نہ بڑھی
بس میں ہوتا تو تری بزم سجاتے ہم بھی بے بسی سایۂ دیوار سے آگے نہ بڑھی
جلوۂ ذات سے آگے تھی فقط ذات ہی ذات بندگی رقص سر دار سے آگے نہ بڑھی
بے خودی دشت و بیاباں سے ورا ہے واصفؔ آگہی وادیٔ پر خار سے آگے نہ بڑھی