چھوڑو مجھے بے خود میرا آرام یہی ہے بے نام و نشاں رہنے دو بس نام یہی ہے
لے سر سے قدم تک ہوں جلا شمع کی مانند شاید کہ میاں عشق کا انجام یہی ہے
کافر ہوں جو میں اپنے تئیں جانوں کہ میں ہوں جو کچھ ہے سو تو ہے مرا اسلام یہی ہے
سوجھے نہیں دن رات ترے دھیان میں پیارے اپنی تو سحر ہے یہی اور شام یہی ہے
کہتے ہیں نیازؔ آپ کو اس شکل مری میں یہ سچ ہے کہ تو پاک پہ یاں نام یہی ہے