We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

Wohi Tabassum Wohi Tarannum

Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari

وہی تبسم وہی ترنم وہی نزاکت وہی لطافت وہی ہیں دزدیدہ سی نگاہیں کہ جن سے شوخی ٹپک رہی ہے


گلوں کی خوشبو مہک رہی ہے دلوں کی کلیاں چٹک رہی ہیں نگاہیں اٹھ اٹھ کے جھک رہی ہیں کہ ایک بجلی چمک رہی ہے


یہ مجھ کو کہتی ہے دل کی دھڑکن کہ دست ساقی سے جام لے لو وہ دور ساغر کا چل رہا ہے شرابِ رنگیں چھلک رہی ہے یہ میں نے مانا حسین و دلکش سماں یہ مستی بھرا ہے لیکن خوشی میں حائل ہے فکر فردا مجھے یہ مستی کھٹک رہی ہے



Download Lyrics & Access Offline - Install Our App Now!

Get it on Google Play


نہ جانے کتنے فریب کھائے ہیں راہِ الفت میں ہم نے اخترؔ پر اپنی مت کو بھی کیا کریں ہم فریب کھا کر بہک رہی ہے


No More Screenshots! Save Storage with Our Lyrics App!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah