سوچا لکھوں جو مدحت خیرالانام کو خم ہوگئ جبین قلم احترام کو
وہ جلوہ گاہِ حسن سے منسوب ہوگیا پاۓ نبی کا قرب ملا جس مقام کو
سرکار کا کرم میرے سرکار کا کرم سیراب کررہا ہےہراک خاص وعام کو
آیا خیال اُن کا تو محسوس یوں ہوا میں پڑھ رہا ہوں جیسے خدا کے کلام کو
تھا مرکزِ نگاہِ کفِ پاۓ مصطفیٰ سجدہ کیا تو بھول گۓ ہم امام کو
اس جان کائنات کے چہرے کاعکس ہے جو روشنی نصیب ہے ماہِ تمام کو
جس سمت اُٹھ گئی میرے سرکار کی نظر رشک گہر بنا گئی سنگِ رخام کو
دیکھے جو مجھ دیکھ کر پڑھنے لگے درود اس حسنِ اہتمام سے پالیں غلام کو
خالدؔ میں کوئی گن ہے نہ فضل و کمال ہے چمکا رہا ہےاُن کا کرم اس کے نام کو