We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

صبا یہ کیسی چلی آج دشت بطحا سے امنگ شوق کی اٹھتی ہے قلب مردہ سے


نہ بات مجھ سے گل خلد کی کر اے زاہد کہ میرا دل ہے نگار خارِ طیبہ سے


یہ بات مجھ سے مرے دل کی کہہ گیا زاہد بہارِ خلد بریں ہے بہارِ طیبہ سے


یہ کس کے دم سے ملی جہاں کو تابانی مہ و نجوم ہیں روشن منارِ طیبہ سے


فدائیوں کو یہ ضد کیا کہ پردہ اٹھ جائے ہزار جلوے نمایاں حجابِ آقا سے


جو ہیں مریض محبت یہاں چلے آئیں صدا یہ آتی ہے سن لو مزارِ مولیٰ سے


کنارا ہو گیا پیدا اسی جگہ فوراً کبھی جو ہم نے پکارا میانِ دریا سے


نہ فیض اس محبت میں تو نے کچھ پایا کنارا کیوں نہیں کرتا تو اہل دنیا سے



No More Screenshots! Save Storage with Our Lyrics App!

Get it on Google Play


پس ممات نہ بدنام ہو ترا اخترؔ الٰہی اس کو بچالینا طعن اعداء سے

Get Lyrics On-The-Go! Download Our App Now!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah