We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

Rah Gum Karda Musafir Ka Nigehban Tu Hai

Ahmed Nadeem Qasmi

راه گم کرده مسافر کا نگہباں تو ہے افق باں پر مثال مِہ تاباں تو ہے


تو جو میرا ہے تو میں بے سروساماں ہی بھلا لِلّٰهِ الحَمد ، کہ میرا سروساماں تو ہے


مجھ کو کیا علم کہ کس طرح بدلتی ہیں رُتیں جب مرے دشت خزاں پر بھی گُل افشاں تو ہے


اُس خدا سے مجھے کیسے ہو مجال انکار جس کے شہ پارہ تخلیق کا عنواں تو ہے


اپنے ہر عزم کی تکمیل پر ایماں ہے مرا پسِ ہر عزم اگر سلسلہ جنباں تو ہے


تیرے دم سے ہمیں عرفان خداوند ملا نوع انساں پر خداوند کا احساں تو ہے


یہ بتانے کو کہ با وزن ہے انسان کی ذات دستِ یزداں نے جو بخشی ہے ، وہ میزاں توہے


خاک میں آج بھی ہے گونج ، ترے قدموں کی اور افلاک کی وسعت میں خراماں تو ہے



Download Lyrics & Access Offline - Install Our App Now!

Get it on Google Play


تو نے فاقہ بھی کیا ، اپنا گریباں بھی سِیا اور پھر ذات الہی کا بھی مہماں تو ہے


تیرا کردار ہے احکام خدا کی تائید چلتا پھرتا ، نظر آتا ہوا قرآں تو ہے


رنگ کی قید نہ قدغن کوئی نسلوں کی یہاں جس کے در سب پر کھلے ہیں وہ دبستاں تو ہے


میرے نقاد کو شاید ابھی معلوم نہیں میرا ایماں ہے مکمل ، مرا ایماں تو ہے

Offline Lyrics Anytime, Anywhere - Download the App Today!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah