We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

Kya Muzdah e Jaan BakhshNot Verified

Hassan Raza Khan Barelvi

کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج کاغذ پہ جو سو ناز سے رکھتا ہے قدم آج


آمد ہے یہ کس بادشہِ عرش مکاں کی آتے ہیں فلک سے جو حسینانِ اِرَم آج


کس گل کی ہے آمد کہ خزاں دِیدہ چمن میں آتا ہے نظر نقشۂ گلزارِ اِرَم آج


نذرانہ میں سر دینے کو حاضر ہے زمانہ اس بزم میں کس شاہ کے آتے ہیں قدم آج


بادَل سے جو رحمت کے سرِ شام گھرے ہیں برسے گا مگر صبح کو بارانِ کرم آج


کس چاند کی پھیلی ہے ضیا کیا یہ سماں ہے ہر بام پہ ہے جلوہ نما نورِ قدم آج


کھلتا نہیں کس جانِ مسیحا کی ہے آمد بت بولتے ہیں قالبِ بے جاں میں ہے دَم آج


بت خانوں میں وہ قہر کا کہرام پڑا ہے مل مل کے گلے روتے ہیں کفار و صنم آج


کعبہ کا ہے نغمہ کہ ہوا لوث سے میں پاک بت نکلے کہ آئے مِرے مالک کے قدم آج


تسلیم میں سر وجد میں دل منتظر آنکھیں کس پھول کے مشتاق ہیں مرغانِ حرم آج


اے کفر جھکا سر وہ شہ بت شکن آیا گردن ہے تیری دَم میں تہ تیغ دو دَم آج


کچھ رعبِ شہنشاہ ہے کچھ ولولۂ شوق ہے طرفہ کشاکش میں دلِ بیت و حرم آج


پرنور جو ظلمت کدۂ دہر ہوا ہے روشن ہے کہ آتا ہے وہ مہتابِ کرم آج



Your Lyrics, Even Offline - Install the App for Free!

Get it on Google Play


ظاہر ہے کہ سلطانِ دو عالم کی ہے آمد کعبہ پہ ہوا نصب جو یہ سبز علم آج


گر عالم ہستی میں وہ مہ جلوہ فگن ہے تو سایہ کے جلوہ پہ فدا اَہل عدم آج


ہاں مفلسو خوش ہو کہ مِلا دامن دولت تردامنو مژدہ وہ اُٹھا اَبرِ کرم آج


تعظیم کو اُٹھے ہیں مَلک تم بھی کھڑے ہو پیدا ہوئے سلطانِ عرب شاہِ عجم آج


کل نارِ جہنم سے حسنؔ اَمن و اَماں ہو اس مالک ِفردوس پہ صدقے ہوں جو ہم آج

No Internet? No Problem! Get the App for Offline Lyrics!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah