We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

Khuda Ne Jis Ke Sar

Jamil ur Rehman Qadri

خدا نے جس کے سر پر تاج رکھا اپنی رحمت کا دُرُود اُس پر ہو وہ حاکم بنا مُلکِ رِسالت کا


وہ ماحی کفر و ظلمت شرک و بدعات و ضلالت کا وہ حافظ اپنی ملت کا وہ ناصر اپنی اُمت کا


مَداوا کیسے فرمائے کوئی بیمارِ فرقت کا کہ دِیدارِ نبی مرہم ہے اس دِل کی جراحت کا


اَثر کیا ہوسکے گا مہرِ محشر کی حرارت کا ہمارے سر پہ ہوگا شامیانہ اُن کی رحمت کا


کبھی دِیدارِ حق ہوگا کبھی نظارہ حضرت کا ہمیں ہنگامۂ عیدین ہوگا دن قیامت کا


نہ کیوں ہو آشکارا تیرا جلوہ ذَرَّہ ذَرَّہ میں شہنشاہِ مَدینہ تو ہے پرتو نورِ وَحدت کا


دَمِ آخر سربالیں خرامِ ناز فرماؤ خدارا حال دیکھو مبتلائے دَردِ فرقت کا


دَمِ آخر سرِبالیں یہ فرماتے ہوئے آؤ نہ گھبرا خوفِ مرقد سے نہ کر کھٹکا قیامت کا



Never Be Without Your Favorite Lyrics - Get the App for Offline Access!

Get it on Google Play


ہمیں بھی ساتھ لے لو قافلہ والو ذرا ٹھہرو بہت مدت سے اَرماں ہے مَدینے کی زیارت کا


مری آنکھیں مَدینے کی زِیارت کو تر ستی ہیں چمک جائے الٰہی اب تو تارا میری قسمت کا


قسم حق کی وہ دن عیدین سے بڑھ کر میں سمجھوں گا نظر آئے گا جس دن سبز گنبد اُن کی تربت کا


میں سمجھوں گا مری کشتِ تمنا میں بہار آئی نظر آئے گا جس دن سبز گنبد اُن کی تربت کا


کلی کھل جائے گی دل کی جگر ہوجائے گا ٹھنڈا نظر آئے گا جس دن سبز گنبد اُن کی تربت کا


میں سمجھوں گا ہوا جنت میں داخل موت سے پہلے نظر آئے گا جس دن سبز گنبد اُن کی تربت کا


دِکھا دے فیضِ اُستادِ حسن حضارِ محفل کو جمیلؔ قادری پھر ہو بیاں پرلطف مِدحت کا

No Internet? No Problem! Get the App for Offline Lyrics!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah