We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

Ilaj e Gardish e Lail o Nahar Tu Ne Kiya

Ahmed Nadeem Qasmi

علاج گردشِ لیل و نہار تُو نے کیا غبارِ راہ کو ُچھو کر بہار تُو نے کیا


ہر آدمی کو تشخص ملا ترے دم سے جو بے شمار تھے ، ان کو شمار تو نے کیا


اٹھا کے قعر مذلت سے ابن آدم کو وقار تو نے دیا ، باوقار تو نے کیا


کوئی نہ جن کی سنے اُن کی بات تو نے سنی ملا نہ پیار جنہیں ، اُن سے پیار تو نے کیا


اگر غریب کو بخشے حقوق لامحدود تو قصرِ شاہ کو بھی بے حصار تو نے کیا


جنہیں گماں تھے بہت ، اپنی سرفرازی کے بہ یک نگاہ انہیں ، خاکسار تو نے کیا


دل و دماغ کے سب چاند ہو چکے تھے غروب یہ وہ افق ہے ، جسے تاب دار تو نے کیا



Offline Lyrics Anytime, Anywhere - Download the App Today!

Get it on Google Play


جمال قول و عمل ہو کہ حسن صدق و صفا خدا نے جو بھی دیا ، پائیدار تو نے کیا


جب اُن کے نطق کو پہنچی ، ترے یقین کی آنچ جو بے زباں تھے ، انہیں شعلہ بار تو نے کیا


یہ لطف غالبؔ و اقبالؔ تک نہیں محدود ندیمؔ کو بھی صداقت نگار تو نے کیا

Instant Access to Thousands of Lyrics - Tap to Install!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah