We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

Har Ik Phool Ne Mujh Ko Jhalak Dikhai TeriNot Verified

Ahmed Nadeem Qasmi

ہر ایک پھول نے مجھ کو جھلک دکھائی تری ہوا جدھر سے بھی آئی ، شمیم لائی تری


وہ شخص اپنے مقدر کا خود ہے صورت گر کہ جس نے اپنے ارادوں میں لو لگائی تری


کبھی ہوا نہ مرا سامنا اندھیروں سے جدھر بھی دیکھا ، اُدھر روشنی ہی پائی تری


مرے نقوش قدم پر چراغ کیوں نہ جلیں کہ رہنما ہے مری ، شان رہنمائی تری


درونِ سینہ ، مدینہ اُٹھائے پھرتا ہوں کہ ایک پل بھی گوارا نہیں جدائی تری


مجھے تو اپنے کرم کی یہیں بشارت دے کہ روز حشر نہ دیتا پھروں دہائی تری


گواہی دیتا ہے یہ ارتقائے انسانی کہ کام آئی جہاں بھر کو پیشوائی تری


مجھے قسم ہے تری سیرت منزہ کی کہ تاج و تخت پر اک طنز تھی چٹائی تری


یہ سوچ سوچ کے حیران ہیں فرشتے بھی کہاں کہاں شب اسریٰ ہوئی رسائی تری



Offline Lyrics Anytime, Anywhere - Download the App Today!

Get it on Google Play


ندیمؔ کے سے کروڑوں کا ذکر کیا ہے کہ جب بڑے بڑوں کو بھی تسلیم ہے بڑائی تری

Instant Access to Thousands of Lyrics - Tap to Install!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah