We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

Hai Pak Rutba Fikr Se

Hassan Raza Khan Barelvi

ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا کچھ دَخل عقل کا ہے نہ کام اِمتیاز کا



No Internet? No Problem! Get the App for Offline Lyrics!

Get it on Google Play


شہ رَگ سے کیوں وِصال ہے آنکھوں سے کیوں حجاب کیا کام اس جگہ خردِ ہرزہ تاز کا


لب بند اور دل میں ہیں جلوے بھرے ہوئے اللہ رے جگر ترے آگاہِ راز کا


غش آگیا کلیم سے مشتاقِ دِید کو جلوہ بھی بے نیاز ہے اُس بے نیاز کا


ہر شے سے ہیں عیاں مِرے صانع کی صنعتیں عالم سب آئنوں میں ہے آئینہ ساز کا


اَفلاک و اَرض سب ترے فرماں پذیر ہیں حاکم ہے تو جہاں کے نشیب و فراز کا


اس بے کسی میں دِل کو مِرے ٹیک لگ گئی شہرہ سنا جو رحمت بے کس نواز کا


مانندِ شمع تیری طرف لو لگی رہے دے لطف میری جان کو سوز و گداز کا


تو بے حساب بخش کہ ہیں بے شمار جرم دیتا ہوں واسطہ تجھے شاہِ حجاز کا


بندے پہ تیرے نفسِ لیں ہوگیا محیط اللہ کر علاج مری حرص و آز کا


کیوں کر نہ میرے کام بنیں غیب سے حسنؔ بندہ بھی ہوں تو کیسے بڑے کارساز کا

Your Lyrics, Even Offline - Install the App for Free!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah