We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

اللہ اللہ کے نبی سے فریاد ہے نفس کی بدی سے


دِن بھر کھیلوں میں خاک اُڑائی لاج آئی نہ ذرّوں کی ہنسی سے


شب بھر سونے ہی سے غرض تھی تاروں نے ہزار دانت پیسے


ایمان پہ مَوت بہتر او نفس تیری ناپاک زندگی سے


او شہد نمائے زہر دَر جام گُم جاؤں کدھر تِری بدی سے



Your Lyrics, Even Offline - Install the App for Free!

Get it on Google Play


گہرے پیارے پرانے دِل سوز گزرا میں تیری دوستی سے


تجھ سے جو اٹھائے میں نے صَدمے ایسے نہ مِلے کبھی کسِی سے


اُف رے خودکام بے مروّت پڑتا ہے کام آدمی سے


تُو نے ہی کیا خدا سے نادِم تُو نے ہی کیا خجل نبی سے


کیسے آقا کا حکم ٹالا ہم مر مِٹے تیری خودسری سے


آتی نہ تھی جب بدی بھی تجھ کو ہم جانتے ہیں تجھے جبھی سے


حد کے ظالم سِتم کے کٹر پتھر شرمائیں تیرے جی سے


ہم خاک میں مل چکے ہیں کب کے نکلا نہ غبار تیرے جی سے


ہے ظالم! میں نباہوں تجھ سے اللہ بچائے اس گھڑی سے


جو تم کو نہ جانتا ہو حضرت چالیں چلیے اس اَجنبی سے


اللہ کے سَامنے وہ گن تھے یاروں میں کیسے متقی سے


رہزن نے لُوٹ لی کمائی فریاد ہے خضر ہاشمی سے


اللہ کنوئیں میں خود گِرا ہوں اپنی نالِش کروں تجھی سے


ہیں پُشتِ پناہ غوثِ اعظم کیوں ڈرتے ہو تم رضاؔ کسی سے

Offline Lyrics Anytime, Anywhere - Download the App Today!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah