آؤ تسبیح صبح و شام کریں یوں غمِ زندگی تمام کریں
ہر طرف جان و دل بچھا دیجئے کیا خبر وہ کہاں قیام کریں
چشمِ تر، سوز آرزو لے کر اُن کے جلوے کا انتظام کریں
آج وہ پوچھنے تو آئے ہیں زندگی نذر اقتدام کریں
آرزو کیسے ہو تکلّم کی آج جاں نذرِ ابتسام کریں
خواہشِ بوسہٴ قدم کے لیے سنگِ در تجھ سے اِلتہام کریں
ان کا آنا تھا کچھ خبر نہ رہی آج سجدہ کریں قیام کریں
پھر سے کعبے کی اِحتیاج نہ ہو نقش ایسا کچھ اِرتسام کریں
ساقیا! تیرا میکدہ کیا ہے بِن پیے رقص تشنہ کام کریں
جرعہٴ مئے معرفت کے لیے ساقیِ حشر کو سلام کریں
ان کے کوچے میں سر کے بل جا کر آؤ طوفِ در حرام کریں
ان کی دہلیز چومنے والے کیسے تقصیر استلام کریں
کوئے جاناں میں جن کو رہنا ہو کوششِ ترکِ احتشام کریں
تیری طلعت مہ ربیع میں ہے کیسے وصفِ مہِ صیام کریں
جل اٹھے گا یہ عالم ہستی حسن جب بھی وہ بے نیام کریں
ان کے جلوے زمیں کے ذرّوں کو منبعِ نورِ صمصمام کریں
ان کی زلفیں لہر کے محشر میں بدر کو بھی سیاہ فام کریں
نظر کر دیں تو ’بُود‘ ہو جائے گر ہٹا لیں تو پھر عدام کریں
تیرے چہرے کی چاندنی کے شہید حشر میں شکوہ ظلام کریں
عمر صحرا میں کٹ گئی کہ کبھی جلوہٴ راکبِ سنام کریں
تابِ دیدار ہی نہ تھی پھر کیوں شکوہٴ گیسوئےِ شمام کریں
خیمہٴ دل پہ تیری ویرانی پیشِ آں شحمہٴ خیام کریں
کیا عجب ہے وہ مہرباں ہو کر کوئی شب تیرے ہاں قیام کریں
جن کو حسن ازل میں ڈھلنا ہو اپنے ہونے کا انعدام کریں
کاش مِٹ جائے فرقِ ثنویت مثلِ قوسین انضمام کریں
ارتقاء آخری مراحل پر ہو تو اپنا سفر تمام کریں
پھر من و تو کی اُلجھنوں کے لیے عارفو! کیوں نزولِ تام کریں
اپنی وحدت کو بیکراں کر کے ہم بھی کثرت میں اِنقسام کریں
کوئی بجلی جلا ہی دے شاید آؤ ہم طُور پر خرام کریں
لا مکاں تک تو اِک قدم بھی نہ تھا اس سے آگے کہیں خرام کریں
تو بھی آ کاسہٴ نظر لے کر تاکہ ہم لطفِ دیدِ عام کریں
آ تجھے سوزِ آخرِ شب دیں دل ترا شحمہٴ نمام کریں
آ کہ سرِّ سکوت دے کے تجھے کوہ و صحرا سے ہم کلام کریں
آ تجھے دولتِ غنا دے کر شرق سے غرب تک اِمام کریں
آ کریں تجھ پہ پَرتوِ ہستی تجھ سے روشن جدا در و بام کریں
ہم تو چاہیں ترے ذریعے سے آ کہ ہم اپنا جلوہ عام کریں
تو ہمیں یاد بھی کرے نہ کرے ہم تِرا ذکر صبح و شام کریں
رازِ ہستی کھلے نہیں طاہرؔ مطلع ہی مقطعِ کلام کریں