We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

Rawayye Khair Ke Jis Roze

Riaz Majeed

رویے خیر کے جس روز سے ہوۓ چوپٹ ہوا ہے زیست کا سارا نظام ہی تلپٹ


بُنَت ہے طبع میں' غفلت کے تانے بانے کی بساطِ زیست سے جاتی نہیں تبھی سلوٹ


خیال و خواب میں حرص و ہواۓ دنیا ہے عجیب پالے ہوۓ ہیں وجود میں جھنجھٹ


ہے صفحے صفحے پہ جرم و خطا کا گرد و غبار گئی ہے ریگِ گنہ سے کتاب' عمر کی اَٹ


بس ایک ذات اسی کی بندھاتی ہے ڈھارس ہجوم بے کسی سے جب گئی ہو روح اُچٹ


گمان پرستی کا انجام یہ ہی ہونا تھا کہا تھا تجھ سے یہ کس نے کہ واہموں سے لپٹ


جو بے توجہی اُس ذات سے ہے' ٹھیک نہیں ابھی بھی وقت ہے ترتیب' روزِ شب کی الٹ



Get Lyrics On-The-Go! Download Our App Now!

Get it on Google Play


ریاضؔ ہو متوجہ! اماں میں اس کی آ صدائیں دیتی ہے اس بے نیاز کی چوکھٹ

No More Screenshots! Save Storage with Our Lyrics App!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah