We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

Sar Subh Saadat Ne

Hassan Raza Khan Barelvi

سر صبح سعادت نے گریباں سے نکالا ظلمت کو ملا عالم اِمکاں سے نکالا


پیدائشِ محبوب کی شادی میں خدا نے مدت کے گرفتاروں کو زِنداں سے نکالا


رحمت کا خزانہ پئے تقسیمِ گدایاں اللہ نے تہ خانۂ پنہاں سے نکالا


خوشبو نے عنادِل سے چھڑائے چمن و گل جلوے نے پتنگوں کو شبستاں سے نکالا


ہے حُسنِ گلوئے مہ بطحا سے یہ روشن اب مہر نے سر ان کے گریباں سے نکالا


پردہ جو تِرے جلوۂ رنگیں نے اُٹھایا صَرصَر کا عمل صحنِ گلستاں سے نکالا


اُس ماہ نے جب مہر سے کی جلوہ نمائی تاریکیوں کو شامِ غریباں سے نکالا


اے مہر کرم تیری تجلی کی ادا نے ذَرَّوں کو بلائے شب ہجراں سے نکالا


صدقے تِرے اے مرد مک دیدۂ یعقوب یوسف کو تری چاہ نے کنعاں سے نکالا


ہم ڈوبنے ہی کو تھے کہ آقا کی مدد نے گرداب سے کھینچا ہمیں طوفاں سے نکالا


اُمت کے کلیجہ کی خلش تم نے مٹائی ٹوٹے ہوئے نشتر کو رَگِ جاں سے نکالا


ان ہاتھوں کے قربان کہ ان ہاتھوں سے تم نے خارِ رہِ غم پائے غریباں سے نکالا


اَرمان زَدوں کی ہیں تمنائیں بھی پیاری اَرمان نکالا تو کس اَرماں سے نکالا


یہ گردنِ پر نور کا پھیلا ہے اُجالا یا صبح نے سر اُن کے گریباں سے نکالا


گلزارِ براہیم کیا نار کو جس نے اس نے ہی ہمیں آتش سوزاں سے نکالا


دینی تھی جو عالم کے حسینوں کو ملاحت تھوڑا سا نمک اُن کے نمکداں سے نکالا


قرآں کے حواشی پہ جلالین لکھی ہے مضموں یہ خطِ عارِضِ جاناں سے نکالا


قربان ہوا بندگی پر لطف رِہائی یوں بندہ بنا کر ہمیں زِنداں سے نکالا


اے آہ مِرے دل کی لگی اور نہ بجھتی کیوں تو نے دھواں سینۂ سوزاں سے نکالا


مدفن نہیں پھینک آئیں گے اَحباب گڑھے میں تابوت اگر کوچۂ جاناں سے نکالا


کیوں شور ہے کیا حشر کا ہنگامہ بپا ہے یا تم نے قدم گورِ غریباں سے نکالا


لاکھوں تِرے صدقے میں کہیں گے دمِ محشر زِنداں سے نکالا ہمیں زِنداں سے نکالا


جو بات لب حضرتِ عیسٰی نے دکھائی وہ کام یہاں جنبش داماں سے نکالا



Find Your Favorite Lyrics Anytime, Anywhere - Install the App Today!

Get it on Google Play


منہ مانگی مرادوں سے بھری جیب دو عالم جب دست کرم آپ نے داماں سے نکالا


کانٹا غمِ عقبے کا حسنؔ اپنے جگر سے امت نے خیالِ سر مژگاں سے نکالا

Get Lyrics On-The-Go! Download Our App Now!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah