We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

Sar Par Ghulami Ki Dastaar

Muzaffar Warsi

سر پر غلامی کی دستار باندھوں تن پر محمؐد کے رنگ پہنوں دست طلب کے رکھوں بند ڈھیلےٗ پیروں میں زنجیرِ تنگ پہنوں


شفّاف ایسی طبیعت ہے اپنی میلا بدن بھی گوارا نہیں کپڑے تو کپڑے ہیں میں روح پر بھی نکھرا ہوا انگ انگ پہنوں


گھٹتے ہوئے فاصلوں کی مدد سے بڑھتا رہے میرا شوق سفر پہنائیں جب ان کے رستے کے جھونکے خوش ہو کے احرام سنگ پہنوں


سب سے بڑا نفس دشمن ہے میرا سر کوبی نفس کے واسطے تنہائیوں میں بھی اکثر میں آقاؐ پوشاکِ میدان جنگ پہنوں


باہر نکل آئے اندر کا چہرہ تو آئنہ مجھ پہ ہنسنے لگے کر دو مرے دیدہ دل بھی صیقل کب تک گناہوں کا زنگ پہنوں


حسرت سے لعل و گہر مجھ کو دیکھیں رعنائیاں رشک مجھ پر کریں تقوے میں صبر و قناعت پرو کر میں مصطفؐےٰ کا ملنگ پہنوں



Instant Access to Thousands of Lyrics - Tap to Install!

Get it on Google Play


مارے ہیں کتنے ملامت کے پتھر پھر بھی نہ آقاؐ کے لائق ہوا کیا ٹوٹے پھوٹے بدن پر مظفر اب جامہء نام و ننگ پہنوں

Never Be Without Your Favorite Lyrics - Get the App for Offline Access!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah