We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

پُل سے اُتارو راہ گزر کو خبر نہ ہو جِبریل پر بِچھائیں تو پر کو خبر نہ ہو


کانٹا مِرے جگر سے غَمِ رُوزگار کا یُوں کِھینچ لیجیے کہ جِگر کو خبر نہ ہو


فریاد اُمَّتی جو کرے حالِ زار میں ممکن نہیں کہ خیرِ بشَر کو خبر نہ ہو


کہتی تھی یہ بُراق سے اُس کی سبک رَوی یُوں جائیے کہ گردِ سفر کو خبر نہ ہو



No Internet? No Problem! Get the App for Offline Lyrics!

Get it on Google Play


فرماتے ہیں یہ دونوں ہیں سردارِ دو جہاں اے مُرتضیٰ! عتیق و عمر کو خبر نہ ہو


ایسا گُما دے اُن کی وِلا میں خدا ہمیں ڈُھونڈھا کرے پر اپنی خبر کو خبر نہ ہو


آ دِل! حرم کو روکنے والوں سے چُھپ کے آج یُوں اُٹھ چلیں کہ پہلو و بر کو خبر نہ ہو


طیر حَرم ہیں یہ کہیں رشتہ بپا نہ ہوں یُوں دیکھیے کہ تارِ نظر کو خبر نہ ہو


اے خارِ طیبہ! دیکھ کہ دامن نہ بھیگ جائے یُوں دِل میں آکہ دِیدۂ تر کو خبر نہ ہو


اے شوقِ دل! یہ سجدہ گر اُن کو روا نہیں اچھا! وہ سجدہ کیجئے کہ سر کو خبر نہ ہو


اُن کے سِوا رضاؔ کوئی حامی نہیں جہاں گُزرا کرے پِسَر پہ پِدَر کو خبر نہ ہو

Never Be Without Your Favorite Lyrics - Get the App for Offline Access!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah