We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

میری میت پہ یہ احباب کا ماتم کیا ہے شور کیسا ہے یہ اور زاریٔ پیہم کیا ہے


وائے حسرت دم آخر بھی نہ آکر پوچھا مدعا کچھ تو بتا دیدۂ پر نم کیا ہے


کچھ بگڑتا تو نہیں موت سے اپنی یارو ہم صفیرانِ گلستاں نہ رہے ہم کیا ہے


ان خیالات میں گم تھا کہ جھنجھوڑا مجھ کو ایک انجانی سی آواز نے اک دم کیا ہے


کون ہوتا ہے مصیبت میں شریک و ہمدم ہوش میں آ یہ نشہ سا تجھے ہر دم کیا ہے


کیف و مستی میں یہ مدہوش زمانے والے خاک جانیں غم و آلام کا عالم کیا ہے


ان سے اُمید وفا ہائے تری نادانی کیا خبر ان کو یہ کردارِ معظم کیا ہے


وہ جو ہیں ہم سے گریزاں تو بلا سے اپنی جب یہی طورِ جہاں ہے تو بھلا غم کیا ہے



Offline Lyrics Anytime, Anywhere - Download the App Today!

Get it on Google Play


میٹھی باتوں پہ نہ جا اہل جہاں کی اخترؔ عقل کو کام میں لا غفلت پیہم کیا ہے

Download Lyrics & Access Offline - Install Our App Now!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah