We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

Khawab Mein Dar Khula

Hafeez Taib

خواب میں در کھلا حضوری کا کیا وسیلہ بنا حضوری کا


اک کسک جب مجھے نصیب رہی وہ بھی تھا مرحلا حضوری کا


جیسے جیسے ہوئی پذیرائی شوق بڑھتا گیا حضوری کا


کیف میں ڈوبتے گۓ شب و روز دَور ایسا چلا حضوری کا


روۓ انور خیال سے گزرا بابِ روشن کھلا حضوری کا


آنسوؤں کے چراغ جل اٹھے جشن برپا پوا حضوری کا


میرے دل میں جو داغِ حسرت تھا بن گیا آئینہ حضوری کا


پیروی ہےحضورؐ کی یا ہے سفرِ جانفزا حضوری کا


ان کے در پر نصیب ہوتا ہے حاضری میں مزا حضوری کا



No More Screenshots! Save Storage with Our Lyrics App!

Get it on Google Play


لاکھ حائل غمِ زمانہ ہوا کارواں کب رُکا حضوری کا


ختم ہوگا نہ بعدِ محشر بھی عملِ ارتقا حضوری کا


دل کا سب درد کر بیاں اس میں نعت ہے سلسلہ حضوری کا


حاصلِ زندگی سمجھ تائب لمحۂ دلکشا حضوری کا


Download Lyrics & Access Offline - Install Our App Now!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah