We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

Kahun Kya Haal Zahid

Hassan Raza Khan Barelvi

کہوں کیاحال زاہد گلشنِ طیبہ کی نزہت کا کہ ہے خلد بریں چھوٹا سا ٹکڑا میری جنت کا


تَعَالَی اللہ شوکت تیرے نام پاک کی آقا کہ اب تک عرشِ اعلیٰ کوہے سکتہ تیری ہیبت کا


وکیل اپنا کیا ہے اَحمد مختار کو میں نے نہ کیوں کر پھر رہائی میری منشا ہو عدالت کا



No Internet? No Problem! Get the App for Offline Lyrics!

Get it on Google Play


بلاتے ہیں اسی کو جس کی بگڑی یہ بناتے ہیں کمر بندھنا دیارِ طیبہ کو کھلنا ہے قسمت کا


کھلیں اِسلام کی آنکھیں ہوا ساراجہاں روشن عرب کے چاندصدقے کیاہی کہنا تیری طلعت کا


نہ کر رُسوائے محشر واسطہ محبوب کا یارب یہ مجرم دُور سے آیا ہے سن کر نام رحمت کا


مرادیں مانگنے سے پہلے ملتی ہیں مدینہ میں ہجوم جود نے روکا ہے بڑھنا دست حاجت کا


شب اَسری ترے جلوؤں نے کچھ ایسا سماں باندھا کہ اب تک عرشِ اَعظم منتظر ہے تیری رخصت کا


یہاں کے ڈوبتے دَم میں ادھر جا کر اُبھرتے ہیں کنارہ ایک ہے بحرِ ندامت بحرِ رحمت کا


غنی ہے دل بھرا ہے نعمت کونین سے دامن گدا ہوں میں فقیر آستانِ خود بدولت کا


طوافِ روضۂ مولیٰ پہ نا واقف بگڑتے ہیں عقیدہ اور ہی کچھ ہے اَدَب دانِ محبت کا


خزانِ غم سے رکھنا دور مجھ کواس کے صدقے میں جو گل اے باغباں ہے عطر تیرے باغ صنعت کا


الٰہی بعد مردن پردہ ہائے حائل اُٹھ جائیں اُجالا میرے مرقد میں ہو اُن کی شمع تربت کا


سنا ہے روزِ محشرآپ ہی کا مونہہ تکیں گے سب یہاں پورا ہوا مطلب دلِ مشتاق رُویت کا


وجودِ پاک باعث خلقت مخلوق کا ٹھہرا تمہاری شانِ وَحدت سے ہوا اِظہار کثرت کا


ہمیں بھی یاد رکھنا ساکنانِ کوچۂ جاناں سلامِ شوق پہنچے بیکسانِ دَشت غربت کا


حسنؔ سرکارِ طیبہ کا عجب دَربارِ عالی ہے درِ دولت پہ اِک میلا لگا ہے اَہل حاجت کا

Get Lyrics On-The-Go! Download Our App Now!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah