We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

درِ جاناں پہ فدائی کو اجل آئی ہو زندگی آکے جنازے پہ تماشائی ہو تیری صورت جو تصوّر میں اُتر آئی ہو پھر تو خلوت میں عجب انجمن آرائی ہو


نیک ساعت سے اجل عیش ابد لائی ہو درِ جاناں پہ کوئی محو جبیں سائی ہو


سنگ در پر ترے یوں ناصیہ فرسائی ہو خود کو بھولا ہوا جاناں ترا شیدائی ہو


خود بخود خلد وہاں کھنچ کے چلی آئی ہو دشت طیبہ میں جہاں بادیہ پیمائی ہو


موسم مے ہو وہ گیسو کی گھٹا چھائی ہو چشم ساقی سے پئیں جلسۂ صہبائی ہو


چاندنی رات میں پھر مے کا وہ اک دور چلے بزمِ افلاک کو بھی حسرت مے آئی ہو


ان کے دیوانے کھلی بات کہاں کرتے ہیں بات سمجھے وہی جو صاحب دانائی ہو


مہر خاور پہ جمائے نہیں جمتی نظریں وہ اگر جلوہ کریں کون تماشائی ہو


دشت طیبہ میں چلوں چل کے گروں گرکے چلوں ناتوانی مری صد رشک توانائی ہو



Why Screenshot When You Can Download? Get the App for Efficient Storage!

Get it on Google Play


گل ہو جب اخترؔ خستہ کا چراغِ ہستی اس کی آنکھوں میں ترا جلوۂ زیبائی ہو

No Internet? No Problem! Get the App for Offline Lyrics!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah