We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

Shahan e Jahan Kis Liye Sharmaye Hoye Hain

Peer Naseer ud Din Naseer

شاہانِ جہاں کس لئے شرمائے ہوئے ہیں کیا بزم میں طیبہ کے گدا آئے ہوئے ہیں


ملتی نہیں دل کو کسی پہلو بھی تسلی لمحاتِ حضوری ہے کہ تڑپائے ہوئے ہیں جنت کی بہاریں انھیں بہلا نہ سکیں گی جو آپ کی گلیوں کی ہوا کھائے ہوئے ہیں


یہ شہرِ مدینہ ہے کہ اک کشش آباد محسوس یہ ہوتا ہے کہ گھر آئے ہوئے ہیں اس وقت نہ چھیڑ اے کشش لذتِ دنیا اس وقت میرے دل کووہ یاد آئے ہوئے ہیں


حاجت نہیں جنبش کی یہاں اے لبِ سائل وہ یوں بھی کرم حال پہ فرمائے ہوئے ہیں سلطانِ مدینہ کی عطا اور یہ عاصی کچھ لوگ تواس بات پہ چکرائے ہوئے ہیں


ہنگامۂِ محشر میں کہاں حبس کا خدشہ گیسو شاہِ کونین کے لہرائے ہوئے ہیں



Get Lyrics On-The-Go! Download Our App Now!

Get it on Google Play


بن جائے گی محشر میں نصیرؔاب تری بگڑی سرکار شفاعت کے لئے آئے ہوئے ہیں

No More Screenshots! Save Storage with Our Lyrics App!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah