We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

Sadaf e Noor Ilahi

Muzaffar Warsi

صدفِ نُورِ الہٰی کا گُہر کیا ہوگا صرف خالق جو نہیں تھا وہ بشر کیا ہوگا



Your Lyrics, Even Offline - Install the App for Free!

Get it on Google Play


اُس کی کِرنوں سے ہر اِک آنکھ لپٹتی ہوگی مطلعِ جسم کا اندازِ سحَر کیا ہوگا


منزلیں بانٹنے آیا تھا جو گمراہوں کو اُس جہاں ساز کی ہجرت کا سفر کیا ہوگا


لیے پھرتا ہُو ں مُحمّؐد سا حسیں آنکھوں میں ذرا سوچو تو مِرا حُسنِ نظر کیا ہوگا


جسم اطہر کو چُھوئے خاکِ زمیں ، نا ممکن عرشِ ثانی کے سوا زیرِ کمر کیا ہوگا


آنے والوں پہ جو قسمت کی طرح کُھلتا ہو حرمِ پاکِ مُحمّؐد کا وہ دَر کیا ہوگا


کون کر سکتا ہے دشمن کو معاف اس کی طرح اور کوئی اس کی طرح سینہ سپر کیا ہوگا


نعت سے لوگ پر کھتے ہیں مظفؔر مُجھ کو اس سے بڑھ کر مرا معیارِ ہُنر کیا ہوگا

Free Up Space - Get Lyrics Without Bulky Screenshots!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah