کُٹیا میں ایک چراغ جلا اور مچ گئی دھوم ستاروں میں ماں کی آغوش میں پاؤں رکھے آہٹ گونجی درباروں میں
انسانیت سر خرو ہوئی ٗ دستارِ زمانہ رفو ہوئی پیروں تک اُن کا لہو پہنچا جب طائف کے بازاروں میں
ایمان و یقیں سے ملوایا ٗ محروموں کو حق دلوایا صحراؤں کو سیراب کیا رو رو کے انہوں نے غاروں میں
ہر غزوہ ایک مصلیٰ تھا وہ تھے یا اُن کا اللہ تھا سجدوں پہ نچھاور کیں راتیں ٗ دن پرو دیئے تلواروں میں
تنہا بھی وہ لشکر لگتے تھے وہ سب سے قد آور لگتے تھے جب سامنے آتے تھے دشمنٗ منہ دے لیتے منقاروں میں
بوبکر و عمر و عثمان و علی چاروں سے اُنہی کی بات چلی ان کے قدموں کی شمع جلی ٗ محرابوں میں میناروں میں
اُمتّی مظفر ہم اُن کے ، ہم کیاٗ سارے عالم اُن کے جو تخت و تاج کے وارث تھے اور رہتے تھے ناداروں میں