We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

جس طرف دیکھئے گلشن میں بہار آئی ہے دل مگر دشتِ مدینہ کا تمنّائی ہے


خوشنما پھول گُلستاں میں کِھلے ہیں لیکن میرا دل خارِ مدینہ ہی کا شیدائی ہے


مصطفٰے کی یہ عِنایت ہے کہ میرے دل میں گنبدِ سبز کی تصویر اُتر آئی ہے


جب کبھی جس نے بھی پائی ہے جہاں کی نعمت آپ کے دستِ کرم ہی سے شہا پائی ہے



Find Your Favorite Lyrics Anytime, Anywhere - Install the App Today!

Get it on Google Play


آہ! مجبور پہ ناچار پہ رنج و غم کی چار جانِب سے شہا! کالی گھٹا چھائی ہے


دے دے مولا! غمِ سلطانِ مدینہ دیدے لب پہ رہ رہ کے یہی ایک دُعا آئی ہے


جب تڑپ کر دِلِ غمگیں نے پُکارا آقا! فوراً اِمداد شہا آپ نے فرمائی ہے


کر دو سَیراب دِل تِشنہ کو اب تو ساقی! شربتِ دِید کا مدّت سے تمنّائی ہے


گُھپ اندھیرا تھا گناہوں کا میں صدقے جاؤں لَحد خود آ کے مری نُور سے چمکائی ہے


نَزع میں ، قَبر میں ، مِیزانِ عمل اور پُل پر ہر جگہ آپ کی نسبت ہی تو کام آئی ہے


سُنّتیں شاہِ مدینہ کی تُو اپنائے جا دونوں عالَم کی فَلاح اِس میں مِرے بھائی ہے


مال و دولت کی ہَوَس دِل سے مٹادے یارب سوزِ سرکار کا عطّارؔ تمنّائی ہے

No More Screenshots! Save Storage with Our Lyrics App!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah