We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

Buraq Fikr Hai

Muzaffar Warsi

بُراقِ فکر ہے گردوں نو رد آج کی رات ہَوا اُڑاتی ہے تاروں کی گرد آج کی رات


یہ کون ذہن کے روشن مکان میں اُترا خیال صُورتِ جبریل دھیان میں اُترا


ہے خم ، رسائی اِنساں پہ فاصلوں کی جبیں بلندیوں پہ کمندیں اُچھالتی ہے زمیں


یہ رات کیوں نہ ہو افضل تمام راتوں میں لِیے ہُوئے ہیں اندھیرے ٗ چراغ ہاتھوں میں


وہ رات ، جس کا زمانہ جواب لا نہ سکے مِلائے آنکھ تو سُورج بھی تاب لا نہ سکے


وہ رات جس نے حسیں خواب جاگ کر دیکھا وہ رات جس نے محمّد ؐ کو عرش پر دیکھا


گیا تھا عِشق ، خلاؤں کی راہ سے آگے نِگاہ جاتی ہے حدِّ نگاہ سے آگے



More Lyrics, Less Storage - Install the App and Ditch the Screenshots!

Get it on Google Play


رُکی رُکی نظر آتی تھی نبض عَالَم کی گُزر رہی تھی سواری رسُولِ اکرمؐ کی


رواں تھے ساتھ فرشتے عبا اُٹھائے ہُوئے فضائیں ، کتبہء صَلِّ عَلیٰ اُٹھائے ہُوئے


عروجِ آدمیّت آپ پر تمام ہُوا خُدا خُود اپنے ہی جلوؤں سے ہمکلام ہُوا


تجلیّات کے ہالے میں یُوں گھِرے دونوں کمان ِ وصل کھِنچی ، مِل گئے سِرے دونوں


بلند ایسے نہ رُتبے کسی نبی کے ہُوئے زہے نصیب کہ ہم اُمّتی اُسی کے ہُوئے

Offline Lyrics Anytime, Anywhere - Download the App Today!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah