We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

Aaj Ki Aqdaar Hun

Muzaffar Warsi

آج کی اَقدار ہُوں ماضی کی عظمت بھی تو ہُوں مَیں غزل گو، شاعرِ بزمِ رسالت بھی تو ہُوں


نُقطہ کہلاؤں گا ، کٹ جاؤں لکیروں سے اگر جِدّ توں سے ہی نہیں ناتا ، روایت بھی تو ہُوں


مَیں کہیں بھٹکوں پہنچنا اُن کے دروازے پہ ہے خواہشِ دُنیا سہی ، جو یائے رحمت بھی تو ہُوں



Get Lyrics On-The-Go! Download Our App Now!

Get it on Google Play


ذہن سے لب تک درُودوں کا اگر ہے سِلسلہ سر سے لے کر پاؤں تک شوقِ زیارت بھی تو ہُوں


زندگی کے ہاتھ میں تو اُن کا دامن آ گیا آخرت میں خُو گرِ مُہرِ شفاعت بھی تو ہُوں


خاکِ پائے مُصطفؐےٰ بھی ایک میرا نام ہے جو زمیں سے آسماں کو ہے وُہ نسبت بھی تو ہُوں


ریزہ ریزہ ہے بظاہر شیشہ ہستی مِرا دستِ سرکارِ دو عالم میں سلامت بھی تو ہُوں


چاہنے والوں سے کرتا ہُوں مظفر ناز بھی ذکر ہو جب میرے آقا کا ، عقیدت بھی تو ہُوں

Your Lyrics, Even Offline - Install the App for Free!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah