وجودِ خاک خورشیدِ نبّوت کی قبا ٹھہرا تو چشمِ آدمیّت میں جمالِ مصطفےٰؐ ٹھہرا
محمدؐ کی بڑائی کا ثبوت اتنا ہی کافی ہے تریسٹھ سال کا سارے زمانوں سے بڑا ٹھہرا
جناب نوح کی پسلی پہ آقاؐ کی رہائش تھی سفینہ اس لئے کہسار کی چوٹی پہ جا ٹھہرا
اُسی کی انگلیوں میں وقت کے دونوں سرے دیکھے کہیں وہ ابتدا ٹھہرا کہیں وہ انتہا ٹھہرا
اسی کی ٹھوکروں میں منزل مقصود رہتی تھی اُسی کی جھونپڑی میں زندگی کی ارتقا ٹھہرا
یہودی کی غلاظت دھوئی جس نے اپنے ہاتھوں سے وہی تہذیب و اخلاقِ جہاں کا مدّعا ٹھہرا
تصور سے بھی اس کے روح کو خوراک ملتی ہے جو ریگستان و صحرا میں سمندر کی ہوا ٹھہرا
مظفر کی ہمیشہ سر پرستی کی درودوں نے درودوں کی بدولت درخورِ قرب خدا ٹھہرا