We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

Rusul Unhin Ka Toh Muzdah

Mustafa Raza Khan Noori

رُسل اُنہیں کا تو مژدہ سنانے آئے ہیں انہیں کے آنے کی خوشیاں منانے آئے ہیں


فرشتے آج جو دُھومیں مچانے آئے ہیں انہیں کے آنے کی شادی رَچانے آئے ہیں


فلک کے حور و مَلک گیت گانے آئے ہیں کہ دو جہاں میں یہ ڈَنکے بجانے آئے ہیں


یہ سیدھا راستہ حق کا بتانے آئے ہیں یہ حق کے بندوں کو حق سے ملانے آئے ہیں


یہ بھولے بچھڑوں کو رَستے پہ لانے آئے ہیں یہ بھولے بھٹکوں کو ہادی بنانے آئے ہیں


خدائے پاک کے جلوے دِکھانے آئے ہیں دِلوں کو نور کے بقعے بنانے آئے ہیں


یہ قید و بندِ اَلم سے چھڑانے آئے ہیں لو مژدہ ہو کہ رِہائی دِلانے آئے ہیں



More Lyrics, Less Storage - Install the App and Ditch the Screenshots!

Get it on Google Play


چمک سے اپنی جہاں جگمگانے آئے ہیں مہک سے اپنی یہ کوچے بسانے آئے ہیں


نسیم فیض سے غنچے کھلانے آئے ہیں کرم کی اپنی بہاریں دکھانے آئے ہیں


یہی تو سوتے ہوؤں کو جگانے آئے ہیں یہی تو روتے ہوؤں کو ہنسانے آئے ہیں


یہ کفر و شرک کی نیویں ہلانے آئے ہیں یہ شرک و کفر کی تعمیریں ڈَھانے آئے ہیں


ہزار سال کی روشن شدہ بجھی آتش یہ کفر و شرک کی آتش بجھانے آئے ہیں


سحر کو نور جو چمکا تو شام تک چمکا بتادیا کہ جہاں جگمگانے آئے ہیں


انہیں خدا نے کیا اپنے مُلک کا مالک انہیں کے قبضے میں رب کے خزانے آئے ہیں


جو چاہیں گے جسے چاہیں گے یہ اسے دیں گے کریم ہیں یہ خزانے لٹانے آئے ہیں


جو گررہے تھے انہیں نائبوںنے تھام لیا جو گرچکے ہیں یہ اُن کو اُٹھانے آئے ہیں


مسیح پاک نے اَجسامِ مردہ زندہ کیے یہ جانِ جاں دِل و جاں کو جلانے آئے ہیں


بلاوا آپ کا اب تک دیا کئے نائب اب آپ بندوں کو اپنے بلانے آئے ہیں


رؤف ایسے ہیں اور یہ رحیم ہیں اتنے کہ گرتے پڑتوں کو سینے لگانے آئے ہیں


سنو گے لا نہ زبانِ کریم سے نوریؔ یہ فیض و جود کے دریا بہانے آئے ہیں

No Internet? No Problem! Get the App for Offline Lyrics!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah