We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

Qadmon Se Phootti Hai Chamak

Muzaffar Warsi

قدموں سے پُھوٹتی ہے چمک ماہتاب کی دہلیز پر کھڑا ہُوں رسا لتمآب کی


ہے چہرہ رسُول نگاہوں کے سامنے تفسیر پڑھ رہا ہُوں مَیں اُمّ الکِتاب کی


اُس والی ِ بہار کا دامن ہے ہاتھ میں مٹّی ہے جس کے سامنے خُو شبُو گُلاب کی



Your Lyrics, Even Offline - Install the App for Free!

Get it on Google Play


مُجھ بے نوا فقیر کی آنکھیں سوال ہیں خیرات مانگتی ہے سماعت جواب کی


گھر جس کو پانیوں پہ بنانے سکھائے تھے رُلتی ہے ساحلوں پہ وُہ اُمّت جناب کی


روضے کی جالیوں سے جکڑ دیجیے مجھے زنجیر کاٹ دیجے مِرے اضطراب کی


سو یا ہُوا ہوں آپ کے قدموں کی خاک پر تعبیر بھی ہو کاش یہی میرے خواب کی


جذبِ جمال ہو کے بھی چمکی نہیں نظر مُجھ کو صلا حیّت ہو عطا اِکتساب کی


سانّسیں ہیں پُل صراط مظفّرؔ کے واسطے دُنیا بھی اِک مثال ہے روزِ حساب کی

Never Be Without Your Favorite Lyrics - Get the App for Offline Access!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah