اس نے بھری محفل کو دیوانہ بنا ڈالا خود شمع بنا سب کو پروانہ بنا ڈالا
دل اپنا محمدﷺ کا کاشانہ بنا ڈالا اجڑے ہوئے اس گھر کو شاہانہ بنا ڈالا
وحدت کی پلا کر مے اس ساقیٔ کوثر نے ایک عالم کثرت کو مستانہ بنا ڈالا
دکھلا کے جھلک اپنی اللہ نے موسیٰ کو دیوانہ بنا ڈالا پروانہ بنا ڈالا
چلو سے پلا ساقی پیمانہ نہیں تو کیا ہم نے انہیں ہاتھوں کو پیمانہ بنا ڈالا
اب یاد مرے دل میں ہر وقت بتوں کی ہے اللہ کا گھر میں نے بت خانہ بنا ڈالا
سنجرؔ کو خیر اپنی کچھ بھی نہیں وحشت ہیں الفت نے اسے ایسا دیوانہ بنا ڈالا