We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

Milad Na Hota Toh

Anwar Ul Mustafa Hamdami

میلاد نہ ہوتا تو کچھ بھی نہ یہاں ہوتا میلاد نہ ہوتا تو کچھ بھی نہ عیاں ہوتا


میلاد نہ ہوتا تو سورج نہ چمک ہوتی میلاد نہ ہوتا تو گلشن نہ مہک ہوتی


میلاد نہ ہوتا تو تارے نہ سحر ہوتی کوئی نہ بشر ہوتا، نہ روحِ بشرہوتی


میلاد نہ ہوتا تو دھرتی نہ فلک ہوتے میلاد نہ ہوتا تو حوریں نہ ملک ہوتے


میلاد کےہونے نےتخلیق کا دَر کھولا میلاد کےہونےنےہرچیزمیں رس گھولا


یلاد کے ہونے نے ہونے کا یقیں بخشا میلاد کے ہونے نے گمراہ کو دیں بخشا


میلاد نے بخشی ہے انسان کو زیبائی میلاد نے بخشی ہے ہر آنکھ کو بینائی معبود اکیلا تھا عابد نہ عبادت تھی


مسجود اکیلا تھا سجدہ نہ اطاعت تھی میلاد نےجیون کا میلہ یہ سجایا ہے



Find Your Favorite Lyrics Anytime, Anywhere - Install the App Today!

Get it on Google Play


تخلیقِ محمدؐ نے دنیا کو بسایا ہے یہ دھوپ اُسی کی ہے سایہ بھی اسی کےہیں


گلیاں بھی اسی کی ہیں، رستےبھی اسی کےہیں تارے بھی اسی کے ہیں پررنگ دھنک اس کی


ہرسمت ہےفطرت کےلہجےمیں کھنک اس کی کلیوں نے چٹک کر یہ میلاد منایا ہے


تاروں نے چمک کریہ میلاد منایا ہے جبریلؑ نے جھنڈوں سےمیلاد منایا ہے


تاریخ نےصدیوں سے میلاد منایا ہے میلاد منایا ہے لمحات نےرُک رُک کے


میلاد منایا ہے خودکعبےنےجھک جھک کے میلاد منانے کو حوروں کی قطار آئی


سیرت کو منانے کی صورت بھی کہاں ہوتی میلاد نہ ہوتا تو سیرت بھی کہاں ہوتی


میلاد کی دھومیں تو خود رب نےمچائی ہے میلاد سے لرزاں ہو؟ جلنا ہے تو جل جاؤ


اُس نور سے مولا نے دھرتی کو بنایا ہے گر نور کے منکر ہو دھرتی سے نکل جاؤ

Never Be Without Your Favorite Lyrics - Get the App for Offline Access!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah