علی کعبہ بسانے آرہا ہے خدا کیا ہے بتانے آرہا ہے
خدا کے گھر میں تھا قبضہ بتوں کا علی قبضہ چھڑانے آ رہا ہے
سجاۓ گا زمیں پر جو معلیٰ علی اس کو بلانے آ رہا ہے
حرم کے جوف میں حیدر اتر کر خدا جھوٹے بھگانے آ رہا ہے
کبھی سوچو وہ کتنا محترم ہے جسے سرور اٹھانے آرہا ہے