We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

Yeh Ehtamam Andheron Ke Radd Mein Rakha Gaya

Akhtar Usmani

یہ اہتمام اندھیروں کے رد میں رکھّا گیا چراغ اِسم محمّد لحد میں رکھّا گیا


مجال ہے کہ ہوئی ہو کہیں کمی بیشی وہ نُور معجزہ ء صد بہ صد میں رکھّا گیا


کہا گیا کہ پُکارو تو کہہ کے 'اُنظُرنا جو بے اَدب تھے انہیں ایک حد میں رکھّا گیا


وہ جس نے آدم و حوّا کو بنتے دیکھا تھا اُسے شروع سے حُسن ابد میں رکھّا گیا


کچھ اور سہل ہُوئیں اگلی منزلیں مجھ پر وظیفہ ء رُخ آقا سند رکھّا گیا



No More Screenshots! Save Storage with Our Lyrics App!

Get it on Google Play


مجھے سُنائی گئی یوں شفاعتوں کی نوید منافقوں کو عذابِ حسد میں رکھّا گیا


عطا ہُوا تھا وہیں سے مزاج رُفت گَری یہ مرتبہ تھا جو بس میری مد میں رکھّا گیا

Never Be Without Your Favorite Lyrics - Get the App for Offline Access!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah