پروردگار ذکرِ محمدؐ نصیب کر قلبِ سلیم، سیرتِ احمدؐ نصیب کر
مینارِ مصطفیٰؐ کی تجلی کا واسطہ قلب و نظر کو روشنی بے حد نصیب کر
پھوٹے جہاں سے امن و محبت کے زمزمے پھر اسے اسی حجاز کی سرحد نصیب کر
ضوبار ہوں جہاں میں محبت کے قمقمے نورِ مقطعات کی ابجد نصیب کر
دربارِ مصطفیٰؐ میں ہے اتنی سی التجا زم زم کے ساتھ قربتِ اسود نصیب کر
پیشانیِ حضورِ جہاں سجدہ ریز تھی ایسی زمین ایسا ہی معبد نصیب کر
اتنی ہے تیز دھوپ جھلسنے لگا بدن شیداؔ کو اپنا سایۃ گنبد نصیب کر