We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

Bohat Markaz Mein Hun

Shaheen Abbas

بہت مرکز میں ہوں، جس دن سے اس محور میں ہوں میں مدینے میں ہوں اور جیسے زمانے بھر میں ہوں میں


خدایا اور ہو، نظارگی میں، اور نم ہو سرِ منظر ہیں آقا اور پس منظر میں ہوں میں


کوئی سمجھا گیا تھا بھیڑ میں اس طرح چلنا سو جس ٹھوکر میں ہونا تھا، اسی ٹھوکر میں ہوں میں


کہاں پھر دو گھروں کا ایک گھر، بس ایک ہی گھر خدا کے گھر میں ہوں میں، مصطفیٰ کےگھر میں ہوں میں


یہ آغے پیچھے ہر وقت آتے جاتے قافلے ہیں کوئی مانے نہ مانے ان میں سے اکثر میں ہوں میں


مگر وہ آسماں کیا ہے، کہاں ہے اور کیوں ہے زمیں، یوں ہے، کہ چادر ہے اور اس چادر میں ہوں میں



No Internet? No Problem! Get the App for Offline Lyrics!

Get it on Google Play


پلٹتا ہوں، پلٹنے والوں میں ہوں بھی نہیں پر کہ پہنچوں اور پھر پہنچوں، اسی چکر میں ہوں میں

Why Screenshot When You Can Download? Get the App for Efficient Storage!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah