We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

Pathar Hatta Ke Lash Se

Mir Takallum Mir

پتھر ہٹا کے لاش سے زینبؑ نے دی صدا کیسے پڑے ہیں جسم کے ٹکڑے جُدا جُدا


ہاۓ ہاۓ میرے غریب کا کیا حال کردیا گھوڑوں سے لاشہ دشت میں پامال کر دیا پہچانوں کس طرح سے بدن سے ہے سر جُدا


پہچاننا تمہارے لیے بھی کٹھن ہوا دیکھا ہے پہلی بار جو زینبؑ کو بے رِدا آتی ہے زرم جلد بتا دو مجھے زرا


کیا لے گۓ ہیں لوٹ کے سب کچھ اشقیاء تن پر بچا ہے ماں کا یہ کُرتہ سِلا ہوا نکلے تھے جب خیام سے یہ حال تو نہ تھا


دیکھوں بندھی ہیں ہاتھوں میں میرے بھی رسیاں اب اور لو بہن کی نہ غربت کا امتحاں کچھ تو جواب دو مجھے صغریٰ کا واسطہ



Get Lyrics On-The-Go! Download Our App Now!

Get it on Google Play


پہچان لوں گی میں تمہیں آواز مجھ کو دو دم توڑتے جو دیکھا ہے کڑیل کوان کو آنکھوں میں اب بہن کی اُجالا نہیں رہا


کرتا رہا ہے ذبح کی کوشش کہاں کہاں خنجر کے ہیں کٹی ہوئی گردن پہ بھی نشاں کاٹا ہے کس طرح سے ستمگار نے گلا


آہستہ سے جواب دو ہے ساتھ اُس کی ماں کیا اب تمہارے پاس ہے معصوم بے زباں ننھا سا لاشہ کس کا یہ سینے پے ہے رکھا


وہ بھی تمہاری طرح سے زخمی نہ ہو کہیں دِل کو میرے یہ لگتا ہے موجود ہے یہیں آتی ہے ماں کے رونے کی نزدیک سے صدا


زینب پکاری میر تکلمؔ بصد ملال کیا مرتےوقت بھی میرےپردےکاتھاخیال ہے مٹھیوں میں کِس لیے یہ خاکِ کربلا

Find Your Favorite Lyrics Anytime, Anywhere - Install the App Today!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah