We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

Sarkar Ke Rozay ko Tarasti Hain Yeh Aankhein

Azam Azeem Azam

سرکار کے روضے کو ترستی ہیں یہ آنکھیں دیدارِ محمد میں برستی ہیں یہ آنکھیں


اس بات کی دھن ہے انہیں بس دیکھیں مدینہ اس شوقِ جنوں میں نہیں تھکتی ہیں یہ آنکھیں


شاید کہ کمی ان میں ہے جلوؤں سے ہیں محروم ہر روز یہی بات سمجھتی ہیں یہ آنکھیں


لب میرے خموشی کی زباں بول رہےہیں مالا شہ ابرار کی جپتی ہیں یہ آنکھیں


اِن آنکھوں کو اس کے سوا بھاتا نہیں کچھ بھی ہجرِ غمِ سرور میں مچلتی ہیں یہ آنکھیں



No Internet? No Problem! Get the App for Offline Lyrics!

Get it on Google Play


اٹھ جاتی ہیں جس سمت تو رحمت ہے برستی پیغامِ خدا خلق کو دیتی ہیں یہ آنکھیں


اُمت کے لۓ روئیں جو ان آنکھوں کے صدقے اعظم کو بھی تو اپنا سمجھتی ہیں یہ آنکھیں

No Internet? No Problem! Get the App for Offline Lyrics!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah