We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

Lab Waan Hain Ankhein Band Hain

لب وا ہیں، آنکھیں بند ہیں، پھیلی ہیں جھولیاں


کتنے مزے کی بھیک تِرے پاک در کی ہے


گھیرا اندھیریوں نے دہائی ہے چاند کی


تنہا ہوں، کالی رات ہے، منزل خطر کی ہے


قسمت میں لاکھ پیچ ہوں، سو بل، ہزار کج


یہ ساری گتھی اِک تِری سیدھی نظر کی ہے


ایسی بندھی نصیب کھلے مشکلیں کھلیں


دونوں جہاں میں دھوم تمہاری کمر کی ہے


جنّت نہ دیں، نہ دیں، تِری رویت ہو خیر سے


اس گُل کے آگے کس کو ہوس برگ و بر کی ہے


شربت نہ دیں، نہ دیں، تو کرے بات لطف سے


یہ شہد ہو تو پھر کسے پَروا شکر کی ہے



Find Your Favorite Lyrics Anytime, Anywhere - Install the App Today!

Get it on Google Play


میں خانہ زاد کہنہ ہوں صورت لکھی ہوئی


بندوں، کنیزوں میں مِرے مادر پدر کی ہے


منگتا کا ہاتھ اٹھتے ہی داتا کی دین تھی


دوری قبول و عرض میں بس ہاتھ بھر کی ہے


سنکی وہ دیکھ بادِ شفاعت کہ دے ہوا


یہ آبرو رضؔا تِرے دامانِ تر کی ہے

Offline Lyrics Anytime, Anywhere - Download the App Today!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah