We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

Khud Ko Shab e Furqat Main

خود کو شبِ فرقت میں مشکل سے سنبھالا ہے منظر یہ حضوری کا اب دیکھنے والا ہے


ہونٹوں پہ درودوں کا مہکا ہوا یہ موسم ہاتھوں میں عقیدت کے جزبات کی مالا ہے


یہ شہر پیمبر ہےلے سانس بھی آہستہ رحمت کی گھٹائیں ہیں انوار کا ہالہ ہے


آنکھیں مری جھک جھک کرجالی سے لپٹتی ہیں کیا وجد کا عالم ہے کیا کیف نرالا ہے


اوقات مری کیا ہے کیا نام و نسب میرا اس در کا میں منگتا ہوں کیا کم یہ حوالہ ہے


مرکر بھی پڑے رہنا سرکار کی چاکھٹ پر کیا خوب غلامی کا مفہوم نکالا ہے



More Lyrics, Less Storage - Install the App and Ditch the Screenshots!

Get it on Google Play


مفلس ہے ریاض آقا ہر ایک حوالے سے آغوش مصائب میں دکھ درد نے پالا ہے

Offline Lyrics Anytime, Anywhere - Download the App Today!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah