We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

Jo Kisi Ata Ne Khata Ke

Asif Akbar

جو کسی عطا نے خطا کے داغ تمام عمر کے دھو دیے تو قتیل شکر نے جوشِ اشک سے شش جہات بھگو دیے


چلے قافلے لیے آبلے، بڑھے حوصلے گھٹے فاصلے وہ نصیب والےتھے وقت نے جنہیں دن یہ دیکھنے کو دیے


تھیں عزیز جاں سے جو منزلیں تو عزیز تر رہیں مشکلیں کہ انہیں سے نظمِ حیات کو نۓ عزم دینے تھے سو دیے



Find Your Favorite Lyrics Anytime, Anywhere - Install the App Today!

Get it on Google Play


کبھی جستجو کبھی گفتگو کبھی کوبکو کبھی روبرو وہ ہزار شوق کے رنگ تھے جو کسی نے جاں میں سمو دیے


کبھی دیکھنا، کبھی بھیپنا، کبھی مانگنا، کبھی سوچنا کبھی ضبطِ حال میں کھوگۓ کبھی فرطِ شوق سےرو دیے


وہ درِ کرم ، وہ رہِ نعم، وہ شب حرم وہ وفورِ نم جو متاعِ فکر تھے وقت نے وہی خواب آںکھ میں بو دیے


وہی بے کلی، وہی تشنگی، وہی بے بسی، وہی خستگی جو نکل چکے تھے معتبر وہی مرے وجود نے کھو دیے


یہ عیاں ہے آصفِ ناتواں، ترے دل میں درد ہےاک نہاں تو عجب ہے کیا ھو حروفِ لب سبھی خونِ دل میں ڈبو دیے

Your Lyrics, Even Offline - Install the App for Free!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah